﴾ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ﴿
Welcome to Islamic Queries, where you can ask questions and receive answers from other members of the community.
✉ Dear users

Due to huge spam posted on this forum everyday, we have blocked user registration. From now onwards, you should mail your questions via this contact form or leave a message on the chat-box on the bottom right and experts will be answering it, rather than unknown members. You may also specify whether to make your discourse public on Islamic Queries platform or keep it private or use a different name.

Regards
Caller To Islam


Links


طاغوت کیا ہے ؟

0 votes
33 views asked Jul 23, 2014 by Saleh Al-Saleh (1,560 points)

1 Answer

0 votes

طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے اور وہ اپنی عبادت کیے جانے یا کروائے جانے پر راضی ہو۔

طاغوت خدائی کے جھوٹے داعویدار کو کہتے ہیں ۔انبیاء علیھم السلام اور اولیاء اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاتے تھے اور وہ غیراللہ کی عبادت کرنے والوں کے سب سے بڑے دشمن تھے اس لیے وہ طاغوت نہیں ہیں چاہے لوگ ان کی بندگی کریں۔

امام مالک فرماتے ہیں:

ہر وہ چیز جس کی اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جائے طاغوت کہلاتی ہے۔

امام ابن قیم "طاغوت"کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں:

"ہر وہ ہستی یا شخصیت طاغوت ہے جس کی وجہ سے بندہ اپنی حد بندگی سے تجاوز کر جاتا ہے چاہے وہ معبود ہو،یا پیشوا ،یا واجب اطاعت،چنانچہ ہر قوم کا طاغوت وہ شخص ہوتا ہے جس سے وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر فیصلہ کراتے ہوں،یا اللہ کو چھوڑ کے اس کی عبادت کرتے ہوں،یا الہی بصیرت کے بغیر اس کے پیچھے چلتے ہوں ،یا ایسے امور میں اس کی اطاعت کرتے ہوں جن کے بارے میں انہیں علم ہے کہ یہ اللہ کی اطاعت نہیں۔"(ھدایۃ المستفید: 1219)

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب فرماتے ہیں:

ہر وہ شخص جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہو ،اور وہ اپنی اس عبادت پر راضی ہو ،چاہے وہ معبود بن کے ہو ،پیشوا بن کے ہو،یا اللہ اور اس کے رسول کی ااطاعت سے بے نیاز ،واجب اطاعت بن کے ہو،طاغوت کہلاتا ہے۔(الجامع الفرید:265)

طاغوت تو بے شمار ہیں مگر ان کے سر کردہ و سر بر آوردہ پانچ ہیں:

(1) ابلیس لعین۔
(2) ایسا شخص جس کی عبادت کی جائے اور وہ اس فعل پر رضامند ہو۔
(3) جو شخص لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت ہو اگرچہ اس کی عبادت نہ بھی ہوتی ہو۔
(4) جو شخص علم غیب جاننے کا دعوی کرتا ہو۔
(5) جو شخص اللہ کی نازل کی ہوئی شریعت کے خلاف فیصلہ کرے۔

اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایک بندے کے تین درجے ہیں۔

پہلا درجہ یہ ہے: کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی کو حق سمجھے مگر اس کے احکام کی خلاف ورزی کرے تو یہ فسق اور وہ گناہ گار ہو گا۔

دوسرا درجہ یہ ہے: کہ وہ اللہ کی فرمانبرداری سے منحرف ہو کر یا تو خودمختار بن جائے یا کسی اور کی بندگی کرنے لگے ۔یہ شرک و کفر ہے۔

تیسرا درجہ یہ ہے: کہ وہ اللہ سے بغاوت کرے اور اس کی مخلوق پر خود اپنا حکم چلائے ۔جو شخص اس مرتبے پر پہنچ جائے وہ طاغوت ہے۔اور کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ طاغوت کا منکر نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَمَن يَكْفُرْ بِٱلطَّٰغُوتِ وَيُؤْمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْوَةِ ٱلْوُثْقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَا ۗ

ترجمہ: پس جو طاغوت کے ساتھ کفر کرے اور الله پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیاجو ٹوٹنے والا نہیں (سورۃ البقرۃ،آیت 256)

شیطان سب سے بڑا طاغوت ہے۔جو غیراللہ کی عبادت کی طرف بلاتا ہے۔

۞ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيْطَٰنَ ۖ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّۭ مُّبِينٌۭ ﴿60﴾

ترجمہ: اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تمہیں تاکید نہ کر دی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے (سورۃ یس،آیت 60)

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شیطان کی اطاعت شیطان کی عبادت ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

جو شخص (لا اله الا الله)کا اقرار کرے اور اللہ کے سوا جن جن کی عبادت کی جاتی ہے اُن کا انکار کرے۔اُس کا مال و خون مسلمانوں پر حرام ہو گیا اور اس کے دل کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔(مسلم ،کتاب الایمان)

غور فرمائیے! کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینے سے مال و جان حرام اور محفوظ نہیں ہو سکتی بلکہ مسلمانوں کی تلوار سے جان و مال اس وقت حرام ہو گی جب ان معبودوں کا انکار کر دیا جائے جن کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی ہے۔

مگر آج اللہ کو چھوڑ کر جن جن کی عبادت ہو رہی ہے اکر لوگ اُن کی تردید نہیں کرتے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جن جن کی عبادت کی جاتی ہے اُن کا نکار کرو۔

وہ جابر اور ظالم حکمران جو فیصلے کے لیے کتاب و سنت کا پابند نہ ہو بلکہ انسانوں پر انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نافذ کرے وہ یقینا طاغوت ہے۔ایسے حکمران کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَٰفِرُونَ ﴿٤٤﴾

ترجمہ: اور جو اللہ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں (سورۃ المائدہ،آیت 44)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جب کچھ دین اللہ کا اور کچھ غیراللہ کا چل رہا ہو تو ایسا کرنے والوں کے ساتھ قتال کرنا واجب ہے جب تک کہ صرف اللہ کا دین نافذ نہ ہو جائے۔(مجموع الفتاوی 28/469)

 

answered Jul 23, 2014 by Jale Osman (670 points)
طاغوت کے معنی
-------------------------------
بسم الله الرحمن الرحيم

’’طاغوت سے ہر وہ معبود (جس کی عبادت کی جاتی ہو) متبوع (جس کی اتباع کی جاتی ہو) مطاع (جس کی بات مانی جاتی ہو) مراد ہے جسے بندہ اس کی اصل حیثیت سے زیادہ درجہ دے پس ہر قوم کا طاغوت وہ شخص ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر لوگ اس کے پاس فیصلے کروانے کے لئے جاتے ہوں ،یا اللہ کے سوا اس کی عبادت کرتے ہوں ،یا اللہ کی طرف سے عطاء کردہ کسی بصیرت (دلیل،رہنمائی،حکم) کے بغیر ہی اس کی اتباع کرتے ہوں،یا اس کی بات مانتے ہوں اور نہ جانتے ہوں کہ اس طرح تو اللہ کی بات ماننی چاہیے یہ سب دنیا جہاں کے طواغیت (جمع طاغوت) ہیں ان کے بارے میں اور ان کے ساتھ لوگوں کے تعلقات ومعاملات کے بارے میں غوروفکر کرنے پر آپ جان لیں گے کہ یہ لوگ اللہ کی عبادت سے ہٹ کر طاغوت کی عبادت میں لگ چکے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا) کے بجائے طاغوت کی طرف تحاکم (فیصلے کے لئے جانا)کرتے ہیں اور
اللہ کی بات ماننے اور اس کے رسول کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے طاغوت کی بات ماننے اور اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔

امام جوہری رحمہ اللہ طاغوت کی تعریف میں فرماتے ہیں :

’’طاغوت سے کاہن (غیب کی خبر دینے کا دعویٰ کرنے والا) شیطان اور گمراہی کا ہر سردار مراد ہے ،یہ ایک بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

”یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ۔“

’’وہ طاغوت کے پاس فیصلہ کروانے کے لئے جانا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں۔‘‘

اورایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں جیسا کہ فرمایا:

”اَوْلِیٰٓؤُھُمُ الطَّاغُوْتُ۔“

’’ان کے اولیاء (جمع ولی یعنی دوست یا مددگار) طاغوت ہیں ‘‘۔

اور طاغوت کی جمع طواغیت آتی ہے۔

نیز امیر المومنین ’’عمر بن خطاب‘‘رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”ان الجبت السحر والطاغوت الشیطان“

’’جبت سے مراد جادو اور طاغوت سے مراد شیطان ہے۔‘‘

نیز ’’شیخ عبدالرحمن بن حسن‘‘ آل شیخ کی شرح’’فتح المجید شرح کتاب التوحید‘‘صفحہ 19طبع دارالندوۃ الجدیدۃ میں ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

’’طاغوت سے مراد وہ کہّان (جمع کاہن) ہیں جن پر شیطان اترتے ہیں‘‘۔ان دونوں اقوال کو ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے اورفرمایا کہ طاغوت سے مراد ہر وہ شئے ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے۔

میں کہتا ہوں: کہ دراصل طاغوت سے شیطان مراد ہے جیسا کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایااور گمراہی کے سارے امام اس کی شاخیں ہیں مثلاً کاہن ،جادوگر ،اللہ کے نازل کردہ قانون کے بغیر فیصلے کرنے والے ،اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بغیر ان کے پاس فیصلے کے لئے آنے والے لوگ ،جن کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہو،یا اللہ کی طرف سے کسی دلیل کے بغیر اس کی اتباع کی جاتی ہو،یا اللہ کی نافرمانی میں اس کی اطاعت کی جاتی ہو۔کیونکہ’’ طاغوت ‘‘طغیان(سرکشی)سے نکلا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ طاغوت کی لغوی اصل طغیان ہے اور یہ اشتقاق کے بغیر ہی طغیان کا معنی دیتا ہے اور طغیان سے سرکشی (حد سے بڑھ جانا) مراد ہے لہٰذا ہر وہ معبود ،متبوع یا مطاع جسے بندہ اس کی حقیقت سے زیادہ درجہ دے وہ حقیقی طاغوت ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے طاغوت کے ساتھ کفر کرنے اور اس کا انکار کرنے کاحکم دیاہے اور اس کفر وانکار کو ایمان اور توحید کے صحیح ہونے کی شرط قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا:

فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْم بِاﷲِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَ اﷲُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔

’’پس جو طاغوت کے ساتھ کفر کرے گااور اللہ پر ایمان لائے گا وہی ہے جس نے ایسے مضبوط کڑے کو پکڑلیا جو ٹوٹتا نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والاہے‘‘۔

نیز فرمایا:

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّھُمْ ضَلٰلاًم بَعِیْدًا۔

’’کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم (گمان وخوش فہمی ) ہے کہ وہ آپ کی جانب اور آپ سے پہلے نازل کردہ (وحی ،دین،قانون) پر ایمان رکھتے ہیں اور فیصلے کے لئے طاغوت کے پاس جانا چاہتے ہیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان انہیں دور کی گمراہی میں لاپھینکنا چاہتا ہے‘‘۔

نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے بندوں کو طاغوت سے اجتناب کرنے کا حکم دیاہے ،فرمایا:

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اﷲَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ۔

’’اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو‘‘۔
نیز فرمایا:

وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا وَ اَنَابُوْآ اِلَی اﷲِ لَھُمُ الْبُشْرٰی فَبَشِّرْ عِبَادِ،الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ھَدٰ ھُمُ اﷲُ وَاُولٰٓئِکَ ھُمْ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ۔

’’اور جو لوگ طاغوت کی عبادت سے بچتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے توآپ میرے بندوں کو خوشخبری دے دیجئے وہ بندے جو بات کو توجہ سے سنتے ہیں پھر اس کے اچھے پہلو پر چلتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی لوگ عقل والے ہیں ‘‘۔

والحمد للّٰہ اوّلًا وآخراً
-------------------------------
انصارانِ طاغوت
-----------------------------------------------------

طاغوت کے مددگاروں کی اقسام

1۔باتوں کے ذریعے اس کی مدد کرنے والے:

یعنی جو لوگ باتوں اور اقوال کے ذریعے طاغوت کی مدد کرتے ہیں ان میں سرفہرست وہ نام نہاد علماءسوء ہیں جو کافر حکام کے حق میں شریعت اسلامیہ کا دائرہ وسیع تر کردیتے ہیں اور ان پر کفر کے الزام کا دفاع کرتے ہیں اور جو مسلمان مجاہدین ان کے خلاف بغاوت کریں انہیں بے وقوف اورخارجی اور گمراہ قراردیتے ہیں ان کے ذریعے حکام کو خوب بے وقوف بناتے ہیں ۔نیز اس قسم میں وہ رائٹرز،صحافی اور رپورٹر بھی شامل ہیں جو بذاتِ خود یہ خدمت سر انجام دیتے ہیں ۔

2۔عملی طور پر مددکرنے والے:

ان میں سرفہرست کافر حکام کے سپاہی ہیں خواہ فوجی ہوں یا پولیس آفیسر ہوں یا رنگروٹ یہ سب ان ممالک کے دستور اور قانون کے مطابق چند امور کے لئے تیار کئے جاتے ہیں :

الف: مملکت کے عام نظام کی حفاظت :یعنی اپنی طرف سے بنائے گئے دساتیر (جمع دستور)اور قوانین پر عمل کروانا اور ان کی خلاف ورزی یا ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو سزائیں دینا ۔

ب: دستوری قانونی شکل (آئین )کی حفاظت کرنا:گویا یہ کافر ہی کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ یہ ان کے نزدیک دستور کے مطابق ایک قانونی حاکم شمارکیا جاتا ہے کیونکہ اس کا تقرر اور قیام وضعی دستور (انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کا مجموعہ)میں بیان کردہ اقدامات کے عین مطابق ہوتا ہے۔

ج: قانون کی حکمرانی کویقینی بنانا:یعنی دستور اور قانون کو نافذ العمل کرنا نیز وہ فیصلہ جات جو طاغوتی دستور ی عدالتیں صادر کرتی ہیں انہیں نافذ کرنا بھی اسی میں داخل ہے ۔

قول اور فعل کے ذریعے طاغوت کے ان مددگاروں میں ہمارے ذکر کردہ افراد کے علاوہ ہر وہ شخص بھی شامل ہے جو اپنے قول وفعل کے ذریعے اس کی مددکرے حتی کہ اگر کسی دوسرے ملک کی حکومت بھی اس کی مدد کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے یہ ہیں طاغوت اور اس کے مددگار ۔ (الجامع فی طلب العلم الشریف از عبدالقادر عبدالعزیز ص :544.)

نیز حامیان ومددگار ان طاغوت اس کے دفاع اور اس کی حاکمیت کو برقراررکھنے کی خاطر جان کی بازی تک لگادیتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ کفر وگمراہی کے امام اور سر بر آوردہ شخصیات ان حامیوں اور مددگاروں کے بغیر کسی بھی جگہ پنپ ہی نہیں سکتے جب تک کہ وہ کفر،ظلم وفساد اور گمراہی پر ان کی مدد وحمایت نہ کریں لہٰذا طاغوت کے یہ مددگارہی درحقیقت ان حکام کے (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق حکومت نہیں چلاتے )مقرب،حاشیہ برداراور خاص لوگ ہوئے یہی انہیں (’’زبانیہ‘‘ان فرشتوں کو کہتے ہیں جو لوگوں کو جہنم کی طرف گھسیٹ کر لے جائیں گے)جہنم میں گھسیٹ کرلے جائیں گے اور ان حامیوں ومددگاروں میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو اپنے اقوال کے ذریعے ان کی حمایت کرتے ہیں مثلاً علماء سوء (درباری ملا)بعض صحافی ،رپورٹرز جو ان کے کارناموں اور ترقیاتی منصوبوں کا خوب ڈھنڈوراپیٹتے ہیں اور وہ شعراء ،ادباء اور رائٹرز بھی کہ جن کی زبانیں اورقلم ہر وقت ان کی تعریفات میں تر رہتے ہیں جو ان کے عدل واستقامت کی داستانیں وضع کرتے ہیں اور ان کی حمایت میں لوگوں سے جھوٹ بیان کرکے انہیں شکوک وشبہات میں مبتلا کردیتے ہیں ۔نیز انہیں مشوروں سے نوازنے والے اور ان کی حوصلہ افزائیاں کرنے والے بھی اسی قبیل میں شامل ہیں جو لوگوں کو حقائق سے گمراہ کردیتے ہیں اور اس قسم میں بیان کردہ لوگ بہت زیادہ ہیں اللہ ان میں اضافہ نہ کرے ۔(آمین)

اور ان مددگاروں وحامیوں میں وہ لوگ بھی برابر کے شریک ہیں جو عملی طور پر ان کی مدد وحمایت کرتے ہیں مثلاً فوجی ،سپاہی ،فورسز،اسپیشل فورسز،جمہوریت پسند،امن قام کرنے والے اور سراغ رساں افراد ،پولیس ،وزراء،لیڈرز،اور وہ ارکان سلطنت جن سے مرتد حکام خفیہ ریاستی امور میں مشاورت کرتے ہیں یہ تمام طاغوت کے حامی اور مددگار ہیں جو نہ صرف اس کی بلکہ اس کی سلطنت ،اس کے بنائے گئے کفریہ قوانین ودستور کی بھی حفاظت کرتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جوعوام الناس اور اللہ کے قانون کے مطابق حکومت کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں بلکہ یہ لوگ توطاغوت اورطاغوتی نظام کے دفاع اور حفاظت میں سردھڑ کی بازیاں لگادیتے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں اور اس کے خلاف بغاوت کرنے والوں پر غداری کا الزام لگاکر انہیں سزائے موت دیتے ہیں ۔اگر یہ سب نہ ہوتے تو وہ مرتد حکام بھی نہ ہوتے یہ ان کی بقاء اور ان کی حکومت کی بقاءکی ضمانت ہیں یہی اصل سبب ہیں سو جب ان حکام کو مرتد اور کافر قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق حکومت نہیں کرتے توہر وہ شخص جو ان کی کسی بھی طرح مادی یا معنوی مدد یاحمایت کرے یا کسی بھی طرح ان کا دفاع کرے وہ بھی انہی کی طرح کافر ومرتد ہوا کیونکہ یہی طاغوت اور طاغوتی نظام کا (بلاواسطہ)اولین حامی ومددگار ہے اورمسلمانوں پر ان کے ملکوں میں ان مرتد حکام کے وضع کردہ کفریہ قوانین کونافذ کرکے ان ملکوں میں کفر بواح (ایسا کفر جو انسان کو اسلام کی حدود سے نکال دیتا ہے)کو ظاہر کرنے کا اولین سبب ہے۔اور فقہاء جانتے ہیں کہ کسی بھی شئے سے بلاواسطہ تعلق رکھنے والے اور اس شئے کاسبب بننے والے کابھی شرعاً وہی حکم ہوتا ہے جو خود اس شئے کا ہوتا ہے۔لہٰذا اس اصول کی رو سے طاغوت کے حامی ،مددگار ،معاونین بھی طاغوت اور اس کی طرح کافر ومرتد ہوئے علاوہ ازیں کتاب وسنت میں موجود دلائل سے بھی یہی ثابت او رمتحقق ہوتا ہے۔

-----------------------------------------------------
اکثریت کے خلاف فیصلہ
-----------------------------------------


بسم الله الرحمن الرحيم


جمہوریت کا پیمانہ اورمعبود اور تمام قوانین کا سرچشمہ اکثریت ہوتی ہے جبکہ شوریٰ میں اکثریت کوئی پیمانہ نہیں بلکہ اللہ نے اپنی کتاب میں واضح طور پر اکثریت کے خلاف فیصلہ دیا ہے ۔فرمایا:


وَ اِنْ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْکَ عَنْ سَبِیْلِ اﷲِ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ۔(انعام:116)


اور اگر آپ نے زمین پر رہنے والے افراد کی اطاعت کی تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بہکادیں گے وہ محض گمان پر چلتے ہیں اور صرف اندازے لگاتے ہیں ۔


وَ مَآ اَکْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ۔(یوسف:103)


اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں اگرچہ آپ اس کی تمنا کرتے رہیں۔


وَ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ بِلِقَآءِ رَبِّہِمْ لَکٰفِرُوْنَ۔(روم:9)


اور اکثر لوگ اپنے رب سے ملاقات کا انکار کرتے ہیں ۔


وَ مَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاﷲِ اِلَّا وَ ہُمْ مُّشْرِکُوْنَ۔(یوسف:106)


اورنہیں ایمان لائے ان میں سے اکثر اللہ پر مگر اس حال میں کہ وہ مشرک ہوتے۔


وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ۔(بقرہ:243)


لیکن لوگوں کی اکثر یت شکر نہیں کرتی۔


وَلَکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔(یوسف:21)


لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ۔


فَاَبٰٓی اَکْثَرُ النَّاسِ اِلَّا کُفُوْرًا۔(اسراء:89)


پس اکثر لوگوں نے انکار کردیا لیکن ناشکری سے(نہیں کیا)۔


اس معنی کی اور بہت سی آیات ہیں نیز نبی علیہ السلام نے فرمایا:

درحقیقت لوگ ایسے سو اونٹوں کی طرح ہیں جن میں ایک بھی تو سواری کے قابل نہ پائے گا۔(عن ابن عمر متفق علیہ)


والحمد للّٰہ اوّلًا وآخراً

-----------------------------------------
...