﴾ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ﴿
Welcome to Islamic Queries, where you can ask questions and receive answers from other members of the community.
✉ Dear users

Due to huge spam posted on this forum everyday, we have blocked user registration. From now onwards, you should mail your questions via this contact form or leave a message on the chat-box on the bottom right and experts will be answering it, rather than unknown members. You may also specify whether to make your discourse public on Islamic Queries platform or keep it private or use a different name.

Regards
Caller To Islam


Links


غیر ﷲ سے مدد مانگنا اور قبروں کا طواف؟

0 votes
29 views

ﷲ تعالیٰ آپ کے اچھے کاموں میں برکت ڈالے ۔دین کے لیے جدوجہد کوروزِ قیامت نیکیوں کے میزان میں شمار کرے ۔ہمارا سوال ابومحمد ‘حفظہ ﷲسے ہے ۔ﷲ تعالیٰ انہیں حق پر ثابت قدم رکھے اور روزِقیامت عر ش کے سائے تلے جگہ عنایت فرمائے ۔سوال یہ ہے کہ غیر ﷲ سے مدد مانگنے اور قبروں کا طواف کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے ۔اور غیر ﷲ کے لئے ذبیحہ کرنے والوں اور غیر ﷲ کے لئے نذرونیاز چڑھانے والے کیا مسلمان ہیں یا نہیں؟؟؟ جو لوگ انہیں مسلمان کہتے ہیں یا کبار سلف انہیں معذور تسلیم کرتے ہیں ‘ان کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں ؟جب یہ لوگ معذور ٹھہرے توکفار قریش کیونکر کافر قرار پائے ۔

جواب دیجئے ! ﷲ تعالیٰ آپ کو لغزشوں اور خطاؤں سے محفوظ رکھے ۔

سائل! اخوکم فی ﷲ

 

 

asked Mar 23, 2015 by Saleh Al-Saleh (1,560 points)

1 Answer

0 votes

مجھے آپ کاسوال ملا،آپ نے سوال کیا تھاکہ غیر  ﷲ سے مدد مانگنے اورقبروں کاطواف اور دیگر شرکیہ عمل کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے ۔کیا کافر ہیں یا نہیں ۔ان کو مسلمان تسلیم کرنے والوں اور معذور قراردینے والوں کے متعلق آپ کاکیا حکم ہے ؟

باخبر رہیے کہ  ﷲ تعالیٰ کا سب سے اہم ترین اور اول ترین فریضہ توحید ہے ۔اس توحید کو سیکھنے اور سکھانے کے عمل کو فرض قراردیا گیا ہے ۔اس توحید کے لیے تو  ﷲ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کو مبعوث کیا ہے اور توحید کے برعکس شرک سے ڈرایا گیا ہے ۔فرمان الٰہی ہے۔

{وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُولًا اَنِ اعْبُدُوا  ﷲ َ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ} (النحل:۳۶)

‘‘ہم نے ہرامت میں رسول مبعوث فرمایا ہے۔ (اور حکم دیاکہ)  ﷲ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔’’

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَمَااَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحیْ اِلیْہِ اَنَّہُ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ ۔

آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا گیا اسے ہم نے وحی کی میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔سو میری ہی عبادت کرو۔ (الانبیاء:۲۵

فرمان الٰہی ہے۔

اِنَّ  ﷲ َ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِـہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِ ﷲ ِ فَقَدِ افْتَرٰٓی اِثْمًا عَظِیْمًا۔ (النسائ:۴۸)

‘‘ ﷲ اپنے ساتھ شرک کرنے کو ہرگز نہیں بخشے گا اس کے علاوہ جو گناہ چاہے گا بخش دے گا ۔اور جس نے بھی  ﷲ کے ساتھ شرک کیا اس نے بہت بڑے گناہ کا افتری کیا’’

ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبروں اور قبروالوں سے مانگنا اور طواف کرنا شرک اکبر ہے ۔اور شرکِ اکبر کی وجہ سے اسلام باقی نہیں رہتا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ  ﷲ ِ مَالَایَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔

‘‘اور تم ا ﷲکے علاوہ کسی کو مت پکارو جو تمہیں فائدہ اور نقصان نہیں دے سکتے اگرتم یہ کام کروگے تو تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے’’ (یونس:۱۰۶

وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ  ﷲ ِ اِلٰھًا اٰخِرَ لَا بُرْھَانَ لَہُ بِہٖ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ اِنَّـہٗ لَا یُفْلِحُ الْکٰفِرُوْنَ۔

‘‘جو شخص  ﷲ تعالیٰ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارتا ہے اس کے پاس اس عمل کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔اس کاحساب اس کے رب کے پاس ہوگا۔بے شک  ﷲ تعالیٰ کافروں کو فلاح نہیں دیتا’’۔(المؤمنون:۱۱۷

ابن القیم رحمہ  ﷲ  لکھتے ہیں :شرک کی اقسام میں سے ایک قسم مردوں سے مدد طلب کرنا اور مُردوں کے ساتھ تعلق پکڑنا بھی ہے ۔یہ دُنیا والوں کے شرک کی بنیا د ہے ۔میت کے تمام دنیاوی اعمال منقطع ہوجاتے ہیں۔مرنے والااپنے آپ کو فائدہ یا نقصان نہیں پہنچاسکتا ۔کسی کی مدد کرنا تو بہت بڑی دور کی بات ہے (مدارج السالکین))

قبروں کا طواف کرنا بھی ایک قسم کاشرک ہے ۔کیونکہ طواف ایک عبادت ہے اور غیر  ﷲ کے لئے اس عبادت کو کرنا اور غیر ا ﷲکے لئے ذبیحہ اور نذرونیاز شرک ہے ۔تمام انبیاء اور رسول اسی شرک کو ختم کرنے کے لئے آئے تھے ۔اس شرک اکبر کا مرتکب کافر ہے ۔اگر چہ وہ جاہل ہی کیوں نہ ہو۔کیونکہ اس کی جہالت جانے بوجھے کی جہالت ہے۔فرمانبار ی تعالیٰ ہے۔

وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ ۔ (الانعام:۱۹)

اور میری طرف یہ وحی کی گئی ہے ۔تاکہ تم اور جن لوگوں تک یہ قرآن پہنچے اسے ڈراؤں

شیخ اسحاق بن عبدالرحمن آ ل شیخ رحمہ  ﷲ  فرماتے ہیں۔’’توحید ایک  ﷲ  کی عبادت اور  ﷲ تعالیٰ کے علاوہ تمام معبودوں سے براء ت کا نام ہے ۔جو شخص غیر ﷲ کی عبادت کرتا ہے تو گویا اس نے شرک کاکبر کا ارتکاب کیا ہے ۔یہ ایک بنیادی بات ہے ۔اسی توحید کے لئے  ﷲ تعالیٰ نے رسولوں اورکتابوں کو مبعوث کیا تھا اور قرآن کریم کے ذریعے  ﷲ تعالیٰ نے لوگوں پرحجت قائم کی تھی ۔جو شخص شرک کرتا تھا تو اس کی تکفیر کے لئے ائمہ کرام یہی جواب دیاکرتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ ائمہ کرام مشرک کو توبہ کرنے کا حکم دیتے تھے اگر وہ توبہ تائب ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ اس کے قتل کا حکم دیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ اگر کوئی انتہائی مخفی اور پیچیدہ مسئلے پر غلطی کرتا جس کی دلیل عام مسلمانوں کو معلوم نہ ہوتی تھی۔ ایسے لوگوں کو مشرک تصورنہ کیا جاتا تھا۔ مثلاب عض قدریہ اورمرجئہ کچھ مخفی معاملات میں متنازع رہے تھے ۔لیکن قبروں کی عبادت کرنے والوں کو کیسے قابل تعریف کہا جاسکتاہے جو نفسِ اسلام کے ہی خلاف ہیں۔ کیا شرک کے ساتھ کوئی عمل باقی رہتا ہے ۔ ﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔

وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ ۔ (الاعراف:۴۰

یعنی یہ لوگ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہوجائے۔

فرمایا۔

وَمَنْ یُشْرِکْ بِ ﷲ ِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ ۔ (الحج:۳۱)

یعنی’’جو شخص  ﷲ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو اس کی (حالت ایسی ہوتی ہے)کہ گویا وہ آسمان سے گرا ہے اور پرندوں نے اسے ا چک لیا ہے۔یا اسے ہوا دور کے مکان پر لے جا رہی ہے ‘‘۔

فرمایا۔

اِنَّ  ﷲ َ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِـہٖ۔ (النسائیعنی’’ ﷲ تعالیٰ شرک کرنے والے کو کبھی نہیں بخشتا ‘‘۔

لہٰذا جو یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ رسول اور قرآن کے ذریعے حجت قائم نہیں ہوتی اس کا یہ اعتقاد انتہائی قبیح ہے ۔ہم اس بری فہم سے  ﷲ کی پناہ چاہتے ہیں ۔امت پرحجت قائم ہو چکی ہے بلکہ وہ اہل ِ فترت ‘جن تک کوئی نبی اورکسی نبی کاکوئی پیغام رسالت نہیں پہنچاتھا اور حالت ِجاہلیت میں مرگئے تھے ۔ایسے لوگوں کو مسلمان نہیں کہا جاتا۔اس کے لیے بخشش بھی مانگی نہیں جاسکتی۔ (مجموعۃ عقیدۃ المواحدین ص:۱۵۱)

اس مقام پر واضح شرک اور بدعت میں فرق کر نابہت ضروری ہے ۔مثلاً صدقے کی نیت سے کسی قبر کے پاس جاکر جانور ذبح کرنا ۔اسی طرح میت کے وسیلے سے  ﷲ تعالیٰ سے مانگنا اگرچہ یہ ایسی بدعات ہیں جو آہستہ آہستہ شرک تک جاپہنچتی ہیں۔لیکن پھر بھی ان بدعات سے دائرہ اسلام سے خروج نہیں ہوتا ۔اس مقام پر غورکرنا نہایت ضروری ہے۔ان مذکورہ بالا مشرکوں کے عذرِ جہالت کا حکم لگانے والے خطاکار ہیں۔لیکن ہم اس غلطی کی بناپر ان کی تکفیر نہیں کرسکتے …جب تک یہ غلطی شرک تک نہ پہنچ جائے)
اخوک : ابومحمد عاصم المقدسی حفظہ  ﷲ

 

answered Mar 23, 2015 by Abid (1,970 points)
...